Omeprazole in Urdu

اومیپرازول  کے استعمال سے معدہ میں تیزابیت کم ہو جاتی ہے۔  اس کا استعمال اُن طبی کیفیات میں کروایا جاتا ہے جن میں معدہ میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی ایک عام مثال  ہے ۔ معدہ میں السر ہونے کی صورت میں اومیپرازول کو اینٹی بایئوٹک ادویات کے ساتھ بھی استعمال کروایا جاتا ہے ۔

جسم میں داخل ہونے کے بعد، اومیپرازول کی زیادہ مقدار جگر میں ٹوٹ پُھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور تقریباً 80 فیصد دوا گرُدوں کے ذریعہ جسم سے خارج ہوتی ہے۔ اومیپرازول کھانے کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد اومیپرازول کی تقریباً آدھی مقدار جسم سے خارج ہو چکی ہوتی ہے۔

حاملہ خواتین میں اومیپرازول (Omeprazole) کے اِستعمال سے مُتعلق تحقیق فِی الحال محدود ہے۔ اس لیئے حاملہ خواتین میں اس کا استعمال صرف اشد ضرورت کے تحت کیا جانا چاہیئے۔

چونکہ ذہنی دباؤ یا ڈیپریشن کی حالت میں اِس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ معدہ میں تیزابیت بڑھ جائے گی، (جس سے معدہ میں السر (زخم) بننے خدشہ ہوتا ہے)، اِس لیئے بعض معالج ذہنی دباؤ/ڈیپریشن کی کیفیت میں احتیاطی طور پر بھی یہ دوا شروع کروا دیتے ہیں۔

سائڈ افیکٹ (Side Effects)

اومیپرازول سے مندرجہ ذیل سائڈ افیکٹ سامنے آ سکتے ہیں

– سر چکرانا

– سر درد

– تھکاوٹ کا احساس

– متلی

– پیچش

– پٹھوں کا درد

– قبض

– نیند کم آنا

– پیٹ میں درد

– منہ کا خشک ہونا

– ڈیپریشن

– جوڑوں میں درد

وہ افراد جِن کی عمر 50 سال سے زیادہ ہو اور جِنہوں نے اومیپرازول (Omeprazole) کا اِستعمال طویل مُدت کیلیئے کیا ہو، اُن میں کولہے، کلائ اور ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

 (Omeprazole) کے اِستعمال سے خون میں میگنیشیم کی سطح کم ہو سکتی ہے۔ اِس سے مندرجہ ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:

۔ کھانسی ہونا یا گلا گُھٹتا ہوا محسوس ہونا

۔ خون میں پوٹاشیم کی سطح کم ہونا

۔ پیچش

۔ پٹھوں میں کمزوری محسوس ہونا

۔ Osteomalacia

۔ Osteoporosis

۔ قلب کی حرکت بے ترتیب ہونا

۔ خون میں کیلشیم کی سطح کم ہونا

۔ سر چکرانا

ایسی کیفیت ہو تو اپنے معالج سے رجوع کریں۔ مزید یہ کہ جو لوگ لمبے عرصے سے اومیپرازول کا اِستعمال کر رہے ہوں، اُن کو احتیاطاً Serum Magnesium Levels کا ٹیسٹ وقفہ وقفہ سے کرواتے رھنا چاہیئے

جسم میں داخل ہونے کے بعد، اومیپرازول کی زیادہ مقدار جگر میں ٹوٹ پُھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور تقریباً 80 فیصد دوا گرُدوں کے ذریعہ جسم سے خارج ہوتی ہے۔ اومیپرازول کھانے کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد اومیپرازول کی تقریباً آدھی مقدار جسم سے خارج ہو چکی ہوتی ہے۔

حاملہ خواتین میں اومیپرازول (Omeprazole) کے اِستعمال سے مُتعلق تحقیق فِی الحال محدود ہے۔ اس لیئے حاملہ خواتین میں اس کا استعمال صرف اشد ضرورت کے تحت کیا جانا چاہیئے۔

چونکہ ذہنی دباؤ یا ڈیپریشن کی حالت میں اِس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ معدہ میں تیزابیت بڑھ جائے گی، (جس سے معدہ میں السر (زخم) بننے خدشہ ہوتا ہے)، اِس لیئے بعض معالج ذہنی دباؤ/ڈیپریشن کی کیفیت میں احتیاطی طور پر بھی یہ دوا شروع کروا دیتے ہیں۔

سائڈ افیکٹ (Side Effects)

اومیپرازول سے مندرجہ ذیل سائڈ افیکٹ سامنے آ سکتے ہیں

– سر چکرانا

– سر درد

– تھکاوٹ کا احساس

– متلی

– پیچش

– پٹھوں کا درد

– قبض

– نیند کم آنا

– پیٹ میں درد

– منہ کا خشک ہونا

– ڈیپریشن

– جوڑوں میں درد

وہ افراد جِن کی عمر 50 سال سے زیادہ ہو اور جِنہوں نے اومیپرازول (Omeprazole) کا اِستعمال طویل مُدت کیلیئے کیا ہو، اُن میں کولہے، کلائ اور ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

 (Omeprazole) کے اِستعمال سے خون میں میگنیشیم کی سطح کم ہو سکتی ہے۔ اِس سے مندرجہ ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:

۔ کھانسی ہونا یا گلا گُھٹتا ہوا محسوس ہونا

۔ خون میں پوٹاشیم کی سطح کم ہونا

۔ پیچش

۔ پٹھوں میں کمزوری محسوس ہونا

۔ Osteomalacia

۔ Osteoporosis

۔ قلب کی حرکت بے ترتیب ہونا

۔ خون میں کیلشیم کی سطح کم ہونا

۔ سر چکرانا

ایسی کیفیت ہو تو اپنے معالج سے رجوع کریں۔ مزید یہ کہ جو لوگ لمبے عرصے سے اومیپرازول کا اِستعمال کر رہے ہوں، اُن کو احتیاطاً Serum Magnesium Levels کا ٹیسٹ وقفہ وقفہ سے کرواتے رھنا چاہیئے

Source: https://pharmapedia.pk/omeprazole/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *